حدیث نمبر: 11314
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَرِيبًا، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ "، ⦗٩٦⦘ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ "، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ، فَقَالَ: " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بنو قریظہ نے کہا کہ جو فیصلہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کر دیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلوا بھیجا اور وہ قریب ہی رہتے تھے، وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ“، وہ آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہیں“۔ انہوں نے کہا: میرا فیصلہ ان میں یہ ہے کہ ان کے جنگجو قتل کر دیے جائیں اور بچوں کو قتل کر دیا جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ نے ان میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11314
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3043»