السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحجر— پابندی کا بیان
باب: الحجر على الصبي حتى يبلغ ويؤنس منه الرشد باب: بچے پر پابندی (حجر) عائد رکھنے کا بیان یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس سے سمجھداری محسوس کی جائے۔
حدیث نمبر: 11296
وَرَوَاهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ، فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے قیس سے سنا، وہ یزید بن ہرمز سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”رہا آپ کا یہ سوال کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو جب وہ بالغ ہو جائے اور اس میں سمجھ داری معلوم ہو جائے تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی، لہٰذا اس کا مال اس کے حوالے کر دو۔“