حدیث نمبر: 11295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ لِيَزِيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ: وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ: مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ الرُّشْدُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یزید سے کہا: ”لکھ، آپ نے پوچھا کہ یتیم کو کب تک یتیم کہہ سکتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ جب تک بالغ نہ ہو جائے اور اس سے رشد معلوم نہ ہو، یتیم کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں چیزیں واضح ہو جائیں تو یتیم نہیں رہے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11295