حدیث نمبر: 11294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ، وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ..
حافظ ثناء اللہ

یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو مجھے قسم ہے! جب آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے اور ابھی تک وہ اپنے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکتا، کچھ دے نہیں سکتا ہوتا، اس لیے جب وہ اپنے لیے کوئی اچھی چیز حاصل کرے جیسے دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں تو اس وقت اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11294
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1812»