حدیث نمبر: 11293
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٨٩⦘ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ: بِعْتُ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ، فَلَمَّا بِعْتُهُ إِيَّاهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ مُفْلِسٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ شُرَيْحًا فَقُلْتُ: خُذْ لِي مِنْهُ كَفِيلًا فَقَالَ شُرَيْحٌ: " مَالُكَ حَيْثُ وَضَعْتَهُ "، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ لِي كَفِيلًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي شَرَطْتُ عَلَيْهِ، فَإِنِ اتَّبَعَتْهَا نَفْسِي فَأَنَا أَحَقُّ بِهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " قَدْ أَقْرَرْتَ بِالْبَيْعِ، فَبَيِّنَتُكَ عَلَى شَرْطِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سامان بیچا، جب میں نے وہ سامان بیچ لیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ تو کنگال ہے، تو میں اسے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس لایا اور کہا: آپ میرے لیے اس سے کفیل لیں، تو شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: آپ کا مال وہیں رہے گا جہاں آپ نے بیچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کفیل لینے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے کہا: میں اب شرط لگاتا ہوں کہ اگر میرے دل نے چاہا تو میں اس مال کا زیادہ حق دار ہوں گا، تو شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: تو نے بیع کا اقرار کیا ہے لیکن اپنی شرط پر کوئی دلیل تو لا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11293
درجۂ حدیث محدثین: مصنف عبدالرازق 14295
تخریج حدیث «مصنف عبدالرازق 14295»