السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: حبسه إذا اتهم، وتخليته متى علمت عسرته وحلف عليها باب: جب اس پر (مال چھپانے کی) تہمت ہو تو اسے قید کرنا، اور جب اس کی تنگ دستی کا علم ہو جائے اور وہ اس پر قسم کھا لے تو اسے چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11292
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ السَّقَطِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّمَا الْحَبْسُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لِلْإِمَامِ، فَمَا حَبَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ جَوْرٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قید کرنا اس وقت تک ہے جب تک امام کے لیے مسئلہ واضح نہ ہو، جب مسئلہ واضح ہو جائے تو اس کے بعد قید کیے رکھنا ظلم ہے۔