حدیث نمبر: 11287
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بِهَرَاةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ اسْتَعْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَرِيمِهِ، فَقَالَ: " الزَمْهُ "، ثُمَّ لَقِيَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ

ہرماس بن حبیب عنبری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ایک مقروض کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ۔“ پھر کچھ عرصہ بعد ملے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے جوان! تیرے قیدی کا کیا بنا؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11287