کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ملازمہ (قرض دار کے ساتھ چمٹے رہنے یا اس کا پیچھا کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11285
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا كَعْبُ " وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ: قَالَ اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما سے کچھ پیسے لینے تھے، میری ملاقات ان سے ہوئی تو میں نے انہیں روک لیا، ہم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور ہماری آواز بلند ہوگئی، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب!“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ ﷺ کہہ رہے ہوں کہ نصف قرضہ لے، چنانچہ میں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11285
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 457، و مسلم 1558»
حدیث نمبر: 11286
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: " الزَمْهُ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ہرماس بن حبیب (جو ایک دیہاتی تھے) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک مقروض کو لایا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ“، پھر مجھے فرمایا: ”اے بنی تمیم کے جوان! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11286
حدیث نمبر: 11287
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بِهَرَاةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ اسْتَعْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَرِيمِهِ، فَقَالَ: " الزَمْهُ "، ثُمَّ لَقِيَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ہرماس بن حبیب عنبری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ایک مقروض کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ۔“ پھر کچھ عرصہ بعد ملے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے جوان! تیرے قیدی کا کیا بنا؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11287
حدیث نمبر: 11288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ مُلَازِمٌ رَجُلًا، قَالَ: فَصَلَّى وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ مُلَازِمُهُ، قَالَ: " حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ "، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ تَرَكَهُ وَتَبِعَهُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، قُلْتَ قَبْلُ: " مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ "، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الْعَفَافُ؟ قَالَ: " غَيْرَ شَاتِمِهِ، وَلَا مُتَشِدِّدٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُتَفَحِّشٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُؤْذِيهِ " قَالَ: " وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ "؟ قَالَ: " مُسْتَوْفٍ حَقَّهُ، أَوْ تَارِكٌ بَعْضَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک آدمی کو پکڑ کر بٹھایا کہ رسول اللہ ﷺ آگئے۔ آپ نے نماز پڑھی، پھر اپنا جو کام کرنے آئے تھے وہ کیا۔ ابھی تک میں نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ”اے ابی! تم نے ابھی تک پکڑا ہوا ہے؟ جو شخص اپنے بھائی سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرے تو «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ کرے اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”وفا کرتے ہوئے یا غیر وفا کرتے ہوئے“ کرے۔“ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ نے کچھ دیر پہلے کہا ہے کہ «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کے ساتھ قرض کا مطالبہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا مطلب ہے نہ اسے گالی دے، نہ اس پر سختی کرے، نہ فحش گوئی کرے اور نہ اسے تکلیف دے۔“ میں نے کہا: «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کا کیا مطلب ہے؟ ”پورا حق لے یا کچھ چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11288