السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في الملازمة باب: ملازمہ (قرض دار کے ساتھ چمٹے رہنے یا اس کا پیچھا کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11286
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: " الزَمْهُ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
ہرماس بن حبیب (جو ایک دیہاتی تھے) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک مقروض کو لایا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ“، پھر مجھے فرمایا: ”اے بنی تمیم کے جوان! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے؟“