السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في التقاضي باب: تقاضا کرنے (قرض مانگنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11283
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِمِنًى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا تَقَاضَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ؛ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا "، ثُمَّ قَالَ: " اقْضُوهُ "، فَقَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ: " اشْتَرُوهُ وَأَعْطُوهُ؛ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کچھ قرضہ لینا تھا تو اس نے مطالبہ کیا اور سخت الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو بلاشبہ جس نے حق لینا ہوتا ہے وہ باتیں بھی کرتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو ادائیگی کر دو۔“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے: ہمارے پاس اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ ہے، (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”اسے خریدو اور دے دو، تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں اچھا ہو۔“