السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في التقاضي باب: تقاضا کرنے (قرض مانگنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ قَالَ زَيْدٌ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَانِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مُبَايَعَتِهِ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ وَدَنَا مِنْ جِدَارٍ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ، أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ فَقُلْتُ: اقْضِنِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمُطَّالٌ، لَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، فَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ: يَا يَهُودِيُّ، أَتَفْعَلُ هَذَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ قُوَّتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ وَتَبَسُّمٍ، ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ: " أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجُ أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَاقْضِهِ حَقَّهُ وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مَنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رَوَّعْتَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ.سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تو زید کہنے لگے: جب میں نے محمد ﷺ کو دیکھا تو نبوت کی تمام علامات پہچان لیں، سوائے دو علامات کے، ایک یہ کہ ان کا حلم ان کے جہل (یعنی غصے) پر غالب ہوگا اور جتنا ان کے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کیا جائے گا اتنا ہی ان کا حلم بڑھے گا۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ایک بیع کا تذکرہ کیا۔ زید فرماتے ہیں: وعدے کے دو یا تین دن پہلے رسول اللہ ﷺ ایک انصاری صحابی کے جنازے کے لیے اپنے گھر سے نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ بھی تھے۔ چنانچہ جب جنازہ پڑھ لیا اور دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور غصے سے آپ ﷺ کی طرف دیکھا، پھر میں نے آپ ﷺ کی قمیص اور چادر کے پہلوؤں کو پکڑ کر کہا: اے محمد! میرا حق مجھے دو، اللہ کی قسم! تم سب عبدالمطلب کے خاندان والے قرض ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہو، مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ تم ایسے ہی کرو گے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی آنکھیں ان کے چہرے میں گھوم رہی تھیں۔ پھر انہوں نے مجھے غصے سے دیکھا اور کہا: اے یہودی! کیا تو اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہا ہے؟ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے! اگر مجھے کسی چیز کا ڈر نہ ہوتا تو اپنی تلوار تیرے سر میں مار دیتا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بڑے اطمینان، سکون اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! میں اور وہ تم سے کسی اور سلوک کے خواہاں تھے۔ تم مجھے حسنِ ادائیگی کا کہتے اور اسے حسنِ تقاضا کا کہتے۔ اب اسے لے جا اور اس کا قرض ادا کر دے اور اسے بیس صاع کھجور اضافی دے دو؛ کیونکہ تو نے اسے دھمکایا ہے۔“ پھر انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کیا۔