السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في التقاضي باب: تقاضا کرنے (قرض مانگنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ ⦗٨٦⦘ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: " كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ ثُمَّ يَبْعَثَكَ، قَالَ: فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ فَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جُرَيْجٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.سیدنا خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دور جاہلیت میں لوہار تھا۔ میں نے عاص بن وائل سے کچھ درہم لینے تھے۔ میں اس کے پاس آیا اور مطالبہ کیا تو اس نے کہا: میں تیری رقم نہیں دوں گا حتیٰ کہ تو محمد ﷺ کا انکار کرے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں محمد ﷺ کا تیری موت اور دوبارہ اٹھنے تک انکار نہیں کروں گا، تو اس نے کہا: چلو ٹھیک ہے، اب میرا راستہ چھوڑ دو؛ جب میں مر جاؤں گا اور دوبارہ اٹھایا جاؤں گا، پھر مجھے مال اور اولاد دی جائے گی تو میں اسی وقت تجھے ادائیگی کر دوں گا، اللہ تعالیٰ نے پھر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77]۔