السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: لا يؤاجر الحر في دين عليه، ولا يلازم إذا لم يوجد له شيء باب: آزاد انسان کو اس پر موجود قرض کی وجہ سے مزدور نہیں بنایا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کچھ نہ پایا جائے تو اس سے چمٹے نہیں رہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11270
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ⦗٨٣⦘ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ، " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَهُوَ أَحَدُ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، كَثُرَ دَيْنُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُرَمَاءَهُ عَلَى أَنْ خَلَعَ لَهُمْ مَالَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبد الرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، جو اپنی قوم بنو سلمہ کے ایک فرد تھے، ان کا قرض رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بہت بڑھ گیا، چنانچہ آپ ﷺ نے صرف یہ کیا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا مال قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔