السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: لا يؤاجر الحر في دين عليه، ولا يلازم إذا لم يوجد له شيء باب: آزاد انسان کو اس پر موجود قرض کی وجہ سے مزدور نہیں بنایا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کچھ نہ پایا جائے تو اس سے چمٹے نہیں رہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11269
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ "، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی نے کچھ پھل خریدے تو کسی آفت کی وجہ سے وہ ضائع ہو گئے اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن پھر بھی اس کا مکمل قرض ادا نہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تمہیں مل گیا ہے اسے لے لو، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔“