حدیث نمبر: 11271
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنِهِمْ خُلُقًا، وَأَسْمِحِهِمْ كَفًّا، فَادَّانَ دَيْنًا كَثِيرًا، فَلَزِمَهُ غُرَمَاؤُهُ حَتَّى تَغَيَّبَ عَنْهُمْ أَيَّامًا فِي بَيْتِهِ، حَتَّى اسْتَأْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُرَمَاؤُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَدْعُوهُ، فَجَاءَهُ وَمَعَهُ غُرَمَاؤُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْ لَنَا حَقَّنَا مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللهُ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ نَاسٌ، وَأَبَى آخَرُونَ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْ لَنَا بِحَقِّنَا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْبِرْ لَهُمْ يَا مُعَاذُ "، قَالَ: فَخَلَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَالِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى غُرَمَائِهِ، فَاقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ، فَأَصَابَهُمْ خَمْسَةُ أَسْبَاعِ حُقُوقِهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، بِعْهُ لَنَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلُّوا عَنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ " تَفَرَّدَ بِبَعْضِ أَلْفَاظِهِ الْوَاقِدِيُّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نرم خو اور سخی تھے، ان پر بہت زیادہ قرضہ چڑھ گیا۔ قرض خواہ ان کے پیچھے پڑ گئے۔ وہ لوگوں سے چھپ کر کئی دن اپنے گھر میں ٹھہرے رہے۔ قرض خواہوں نے رسول اللہ ﷺ سے انہیں بلوانے کا مطالبہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ آئے اور قرض خواہ ان کے ساتھ تھے۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس سے ہمارا حق دلوائیے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس پر صدقہ کرے گا اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔“ چند لوگوں نے صدقہ کیا اور کچھ نے انکار کر دیا اور برابر مطالبہ کرتے رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! ان کا حق پورا کرو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال سے قرض خواہوں کا حق ادا کر دیا جو انہوں نے آپس میں تقسیم کر لیا، پھر بھی ان کے حق کا 75 فیصد باقی تھا، وہ کہنے لگے: اسے ہمارے ہاتھ بیچ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، تمہیں اس کا کوئی حق نہیں۔“ واقدی بعض الفاظ میں متفرد ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11271