السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: حلول الدين على الميت باب: میت پر قرض کے فوری واجب الادا ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي سَمْعَانُ بْنُ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " أَهَا هُنَا مِنْ آلِ فُلَانٍ أَحَدٌ؟ " فَقَالَ ذَاكَ مِرَارًا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنْ مُؤَخِّرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِاسْمِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ؛ إِنَّ فُلَانًا، لِرَجُلٍ مِنْهُمْ، مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَرَّوْنَ أَمْرَهُ قَامُوا فَقَضَوْا عَنْهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الْبَغْدَادِيِّ. وَرُوِيَ فِي حُلُولِ الدَّيْنِ عَلَى الْمَيِّتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْقُوفًا، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک میت پر نماز جنازہ پڑھی، جب سلام پھیر لیا تو پوچھا: ”کیا فلاں قبیلے کا کوئی شخص ہے؟“ آپ ﷺ نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا جو تمام لوگوں سے پیچھے بیٹھا تھا وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آیا، آپ ﷺ نے اس سے کہا: ”میں نے کسی بھلائی کے لیے ہی تیرا نام لیا ہے، سن! فلاں آدمی اپنی قوم کے کسی فرد کا مقروض تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے قرضے کی وجہ سے قید تھا۔ اگر آپ اس کے گھر والوں کو یا تلاش کرنے والوں کو دیکھیں (تو انھیں بتا دیں کہ وہ) اس کا قرض ادا کر دیں۔“