السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: من قال: الرهن مضمون باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”رہن (گروی رکھی گئی چیز) کی ضمانت لازم ہے“۔
حدیث نمبر: 11234
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّانَ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ الرَّهْنُ أَقَلَّ رَدَّ الْفَضْلَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ بِمَا فِيهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: الرِّوَايَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ أَصَحُّ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَقَدْ رَأَيْنَا أَصْحَابَكُمْ يُضَعِّفُونَ رِوَايَةَ عَبْدِ الْأَعْلَى الَّتِي لَا يُعَارِضُهَا مُعَارِضٌ تَضْعِيفًا شَدِيدًا، فَكَيْفَ بِمَا عَارَضَهُ فِيهِ مَنْ هُوَ أَقْرَبُ مِنَ الصِّحَّةِ وَأَوْلَى بِهَا مِنْهُ، وَهَذَا الْكَلَامُ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رہن قرض سے کم قیمت کا ہو تو ضائع ہونے پر باقی ادا کرنا ہوگا اور اگر رہن زیادہ قیمتی ہو تو یہ قرض کے بدلے میں چلا جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جس میں ہے کہ دونوں اضافی قیمت واپس کریں گے زیادہ صحیح ہے بہ نسبت اس حدیث کے اور ہم نے آپ کے ساتھیوں کو دیکھا ہے کہ وہ عبدالاعلیٰ کی مذکورہ حدیث کو شدید ضعیف قرار دیتے ہیں، جبکہ اس کے معارض کوئی حدیث نہیں، جب اس کے معارض حدیث بھی ہو اور اس سے معانی کے اعتبار سے بہتر ہو تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا جائے گا۔