السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: ما جاء في زيادات الرهن باب: رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) میں ہونے والے اضافے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11212
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَيُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَرَهَنَنِي فَرَسًا، فَرَكِبْتُهَا، أَوْ أَرْكَبْتُهَا، قَالَ: " مَا أَصَبْتَ مِنْ ظَهْرِهَا فَهُوَ رِبًا ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میں نے ایک آدمی کو پانچ سو درہم ادھار دیے اور اس نے مجھے اپنا گھوڑا گروی دیا، میں نے اس پر سواری کی یا کہا: کسی کو سواری کے لیے دیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ تو نے اس کی سواری کی ہے وہ سود ہے۔