حدیث نمبر: 11203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّهْقَانُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُغِيرَةُ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَقْفَرَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ، وَخَيْرُ خَلِّكُمْ خَلُّ خَمْرِكُمْ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ وَاهٍ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَنَاكِيرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِخَلِّ الْعِنَبِ خَلُّ الْخَمْرِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِالْخَبَرِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ إِنْ شَاءَ اللهُ، أَوْ خَمْرًا تَخَلَّلَتْ بِنَفْسِهَا، وَكَذَلِكَ مَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس گھر کے سالن میں سرکہ شامل ہو وہ گھر کبھی فقیر نہیں ہو سکتا اور بہترین سرکہ وہ ہے جو شراب سے بنایا جائے۔“
شیخ فرماتے ہیں: اہل حجاز انگوروں کے سرکہ کو شراب کا سرکہ کہتے ہیں اور یہی اس روایت میں مراد ہے، اگر یہ سنداً ثابت ہو جائے یا اس سے مراد وہ شراب ہے جو بذاتِ خود سرکہ بن گئی ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11203