حدیث نمبر: 11199
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي يَتَامَى، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَجْعَلُهُ خَلًّا؟ قَالَ: " لَا " فَأَهْرَاقَهُ قَوْلُهُ: فِي حِجْرِ أَبِي، يُرِيدُ حِجْرَ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ زَوْجَ أُمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میرے باپ کی پرورش میں یتیم تھے، میرے باپ نے شراب خریدی، جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا اور عرض کیا: کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو انہوں نے اسے انڈیل دیا (باپ سے مراد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ ان کی ماں کے خاوند تھے)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11199