السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: العصير المرهون يصير خمرا فيخرج من الرهن ولا يحل تخليل الخمر بعمل آدمي باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حِجْرِهِ يَتِيمٌ، وَكَانَ عِنْدَهُ خَمْرٌ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصْنَعُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَصَبَّهُ حَتَّى سَالَ بِهِ الْوَادِي وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، وَذَكَرَ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَهُ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا، قَالَ: " أَهْرِقْهَا " قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس کی گود میں یتیم بچے تھے اور اس کے پاس شراب تھی جبکہ اس وقت شراب حرام کر دی گئی تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں شراب کو سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو اس نے اسے انڈیل دیا حتیٰ کہ وادی بہہ پڑی۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے سفیان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یتیموں کو ملی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَهْرِقْهَا» ”اسے بہا دو۔“ انہوں نے کہا: ”کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“