السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ الْكِنَانِيِّ قَالَ: " كَانَتْ بُيُوتُ مَكَّةَ تُدْعَى السَّوَائِبَ، لَمْ تُبَعْ رِبَاعُهَا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَلَا عُمَرَ، مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ أَخْبَارٌ عَنْ عَادَتِهِمُ الْكَرِيمَةِ فِي إسْكَانِهِمْ مَا اسْتَغْنَوْا عَنْهُ مِنْ بُيُوتِهِمْ، وَقَدْ أَخْبَرَ مَنْ كَانَ أَعْلَمَ بِشَأْنِ مَكَّةَ مِنْهُ عَنْ جَرَيَانِ الْإِرْثِ وَالْبَيْعِ فِيهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن نضلہ کنانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مکہ کے گھروں کو «سَوَائِبُ» کہتے تھے، رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں یہ بیچے نہیں جاتے تھے، جو شخص ضرورت مند ہوتا وہ ان میں سکونت اختیار کرتا اور جو شخص غنی ہوتا وہ دوسروں کو رہائش دیتا تھا۔ یہ منقطع ہے۔ اس حدیث میں اس اچھی عادت کا پتا چلتا ہے جو وہ لوگوں کو رہائش دیتے تھے اور یہ خبر اس نے دی ہے جو مکہ کے گھروں میں وراثت اور خرید و فروخت کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ واللہ اعلم۔