السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب ما يفسد الماء -- باب: الماء الدائم تقع فيه نجاسة وهو أقل من قلتين باب: پانی کو ناپاک (خراب) کرنے والی اشیاء کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: دو قلہ سے کم ٹھہرے ہوئے پانی میں نجاست گرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ عَجِينٍ وَقَعَ فِيهِ قَطَرَاتٌ مَنْ دَمٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهِ قَالَ الْوَلِيدُ لِأَنَّ النَّارَ لَا تُنَشِّفُ الدَّمَ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا يَرْوِي هَذَا سُوَيْدٌ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ عَجَنَتْ لَهُمْ عَجِينًا فِي جَفْنَةٍ فَأَصَابَتْ يَدَهَا حَدِيدَةٌ فِي الْعَجْنِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَأْكُلُوهُ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَسُوَيْدٌ الَّذِي خَلَّطَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْ نُوحٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّةً، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَعَامَّةُ حَدِيثِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَمَا وَصَفُوهُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَغَيْرَهُمْ مَنَ الْأَئِمَّةِ ضَعَّفُوا سُوَيْدًا.(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گر پڑے تھے تو نبی ﷺ نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“
سوید نے اس حدیث کی روایت میں خلط کیا ہے، ایک مرتبہ اسے نوح سے، انہوں نے حسن سے روایت کیا اور ایک مرتبہ حمید سے، انہوں نے انس سے۔ اس کی اکثر احادیث پر ثقہ راوی اس کی متابعت نہیں کرتے اور وہ ضعیف ہے، جیسا کہ احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔