السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كيفية الكيل إذا كان قد سلف في شيء بكيل باب: ماپنے کے طریقے کا بیان جب کسی چیز میں ماپ کے ذریعے سلف (بیع سلم) کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 11157
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ابْتَاعَ شَيْئًا فَحَثَا لَهُ فِي الْمِكْيَالِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَرْسِلْ يَدَكَ وَلَا تُمْسِكْ عَلَى رَأْسِهِ؛ فَإِنَّمَا لِي مَا أَخَذَ الْمِكْيَالُ ".حافظ ثناء اللہ
عباد بن جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی چیز خریدی تو انہیں وزن میں چیز کم دی گئی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو حرکت میں لا (یعنی وزن پورا کر)، انہیں اپنے سر پر باندھ کر نہ رکھ، میرے لیے تو وہی ہے جو «الْمِكْيَالُ» ”مکیال (کنڈا)“ وزن کرے گا۔