السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا خير في أن يعجله بشرط أن يضع عنه باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11141
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا غَانِمُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ السَّعْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَسْلَفْتُ رَجُلًا مِائَةَ دِينَارٍ، ثُمَّ خَرَجَ سَهْمِي فِي بَعَثٍ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: عَجِّلْ لِي تِسْعِينَ دِينَارًا وَأَحُطُّ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَكَلْتَ رِبًا يَا مِقْدَادُ، وَأَطْعَمْتَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سو دینار ادھار لیے، پھر ایک لشکر کے مال غنیمت میں سے میرا حصہ نکلا تو میں نے کہا: میں تمہیں نوے دینار واپس کر دیتا ہوں تو مجھے دس دینار معاف کر دے تو اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ بات اللہ کے رسول ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے خود بھی سود کھایا ہے اور اسے بھی کھلایا ہے۔“