حدیث نمبر: 1114
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مَنْهُ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " رَوَاهُمَا مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ⦗٣٥٨⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: فَإِنْ عَجَنَ بِهِ يَعْنِي بِالْمَاءِ النَّجِسِ عَجِينًا لَمْ يَأْكُلْ وَأَطْعَمَهُ الدَّوَابَّ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ أَنَّهُ يُطْعِمُهُ الدَّجَاجَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، یعنی وہ پانی جو جاری نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھو نہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“
(ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جا سکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1114
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 282»