السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا خير في أن يعجله بشرط أن يضع عنه باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11139
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ ⦗٤٧⦘ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُهُ وَيُعَجِّلُ لَهُ الْآخَرُ، قَالَ: " فَكَرِهَ ابْنُ عُمَرَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی سے مدتِ مقررہ تک قرض لینا ہو اور قرض لینے والا کچھ قرض معاف کر کے وقت سے پہلے لے لیتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا اور اس سے منع کر دیا۔