السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من عجل له أدنى من حقه قبل محله فقبله ووضع عنه طيبة به أنفسهما باب: جس شخص کو اس کی مقررہ مدت سے پہلے اس کے حق سے کچھ کم دے کر جلدی ادائیگی کی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا اور ان دونوں نے باہمی خوش دلی سے بقیہ حق معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 11137
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزْرَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَ بإخْرَاجِهِمْ وَلَهُمْ عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تَحِلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا "، أَوْ قَالَ: " وَتَعَاجَلُوا " وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي سِيَرِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے بنو نضیر کو مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا تو ان کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے انھیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور انھوں نے لوگوں سے قرض لینا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”معاف کرواؤ اور جلدی ادا کرو“ یا فرمایا: ”اپنے لین دین جلدی نمٹا لو۔“