السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من عجل له أدنى من حقه قبل محله فقبله ووضع عنه طيبة به أنفسهما باب: جس شخص کو اس کی مقررہ مدت سے پہلے اس کے حق سے کچھ کم دے کر جلدی ادائیگی کی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا اور ان دونوں نے باہمی خوش دلی سے بقیہ حق معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 11135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَقُولَ: " أُعَجِّلُ لَكَ وَتَضَعُ عَنِّي " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ مقروض کہے: میں تجھے وقت سے پہلے ادائیگی کر دیتا ہوں، لیکن تو مجھے کچھ قرض معاف کر۔