السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: كراهية من كره ذلك باب: جس نے اسے (تیمم کرنے والے کی امامت کو) مکروہ سمجھا ہے، اس کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ، أنا عَبْدُ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ جَنَابَةٌ فِي سَفَرٍ فَتَيَمَّمَ فَأَمَرَنِي فَصَلَّيْتُ بِهِ وَكُنْتُ مُتَوَضِّئًا " وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى الِاسْتِحْبَابِ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں: ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما جنبی ہو گئے تو انہوں نے تیمم کیا اور مجھے حکم دیا تو میں نے ان کو نماز پڑھائی، اس لیے کہ میں وضو والا تھا۔