السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من أجاز السلم في الحيوان بسن وصفة وأجل معلوم إن كان إلى أجل، ومن كرهه باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أَنَّ بَعْضَ مَنْ تَكَلَّمْ مَعَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ قَالَ لَهُ: " إِنَّمَا كَرِهْنَا السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ؛ لِأَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَيَزْعُمُ الشَّعْبِيُّ الَّذِي هُوَ أَكْبَرُ مِنَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ كَرَاهِيَتَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَسْلَفَ لَهُ فِي لِقَاحِ فَحْلِ إِبِلٍ بِعَيْنِهِ، وَهَذَا مَكْرُوهٌ عِنْدَنَا وَعِنْدَ كُلِّ أَحَدٍ، هَذَا بَيْعُ الْمَلَاقِيحِ أَوِ الْمَضَامِينِ أَوْ هُمَا. قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ الشَّافِعِيُّ بِرِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُنْقَطِعًا فِي الْكَرَاهِيَةِ، رِوَايَةَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَأَمَّا رِوَايَةُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهِيَ أَيْضًا مُنْقَطِعَةٌ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ حُذَيْفَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ: أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ ⦗٣٨⦘ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ بَنِي عَمٍّ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَتَوْا وَادِيًا فَصَنَعُوا شَيْئًا فِي إِبِلِ رَجُلٍ قَطَعُوا بِهِ لَبَنَ إِبِلِهِ، وَقَتَلُوا فِصَالَهَا، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعِنْدَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَرَضِيَ بِحُكْمِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَكَمَ أَنْ يُعْطَى بِوَادِيهِ إِبِلًا مِثْلَ إِبِلِهِ، وَفِصَالًا مِثْلَ فِصَالِهِ، فَأَنْفَذَ ذَلِكَ عُثْمَانُ، فَيُرْوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَضَى فِي حَيَوَانٍ بِحَيَوَانٍ مِثْلَهُ دَيْنًا؛ لِأَنَّهُ إِذَا قَضَى بِهِ بِالْمَدِينَةِ وَأَعْطَاهُ بِوَادِيهِ كَانَ دَيْنًا، وَتَزِيدُ أَنْ تُرْوَى عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ يَقُولُ بِقَوْلِهِ، وَأَنْتُمْ تَرْوُونَ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَسْلَمَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي وُصَفَاءَ، أَحَدُهُمْ أَبُو زِيَادَةَ أَوْ أَبُو زَائِدَةَ مَوْلَانَا، وَتَرْوُونَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِي أَبْوَابِ الرِّبَا أَنْ يُسْلَمَ فِي سِنٍّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَذَكَرَهُ، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں سے کسی نے اس مسئلہ میں ان سے بحث کی تو آپ نے اس سے کہا: ہم صورتوں میں بیع سلم ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ روایت ان سے منقطع ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسئلہ اس سے بڑا ہے جس نے ان سے کراہت بیان کی ہے کہ انہوں نے سانڈ میں بیع سلف کی اور یہ ہمارے ہاں مکروہ ہے اور ہر ایک کے ہاں بیع محاقلہ اور مضابنہ یا دونوں ہیں۔ [صحیح]
شیخ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کراہت کے متعلق ہے وہ منقطع ہے اسی طرح سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ بھی پچھلی روایت کی طرح منقطع ہے، چونکہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چچازاد کی وادی میں آئے، انہوں نے کسی آدمی کے اونٹ کے ساتھ کچھ معاملہ کیا۔ اس کا دودھ کاٹ دیا اور اس کے بچوں کو قتل کر دیا تو وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے خوش ہو گیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آدمی کو اس اونٹ کی طرح اونٹ اور ان دودھ پیتے بچوں کی طرح دودھ پیتے بچے دیے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حیوان کے بدلے میں اس جیسا حیوان (بطورِ سزا) فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ انہوں نے پچھلی روایت میں فیصلہ کیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حیوانوں میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی بیع سلم کو سود کی اقسام میں شمار کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔