السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما روي في طلب الماء وفي حد الطلب باب: پانی کی تلاش اور تلاش کی حد کے بارے میں مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يُحَدِّثُ، ٢٧ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَاعٍ فِي غَنَمِهِ أَوْ رَاعٍ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَاءِ مِيلَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، قَالَ: " يَتَيَمَّمُ صَعِيدًا طَيِّبًا ".حافظ ثناء اللہ
حکیم بن رزیق رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بکریوں کے چرواہے کے متعلق یا ایسے چرواہے کے متعلق پوچھا، جو جنبی ہو جاتا ہے اور اس کے اور پانی کے درمیان دو یا تین میل کی مسافت ہوتی ہے، تو وہ کیا کرے؟ ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا شخص پاک مٹی سے تیمم کرے گا۔