السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في ثمن السنور باب: بلی کی قیمت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " لَا بَأْسَ بِثَمَنِ السِّنَّوْرِ ". قَالَ الشَّيْخُ: إِذَا ثَبَتَ الْحَدِيثُ وَلَمْ يَثْبُتْ نَسْخُهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ قَوْلُ عَطَاءٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بِلّے کی قیمت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب صحیح حدیث ثابت ہے اور اس کا نسخ بھی مشہور نہیں تو عطا کے قول کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔