❮
❯
حدیث نمبر: 11038
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ. وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ دُونَ الْبُخَارِيِّ؛ فَإِنَّ الْبُخَارِيَّ لَا يَحْتَجُّ بِرِوَايَةِ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَلَا بِرِوَايَةِ أَبِي سُفْيَانَ، وَلَعَلَّ مُسْلِمًا إِنَّمَا لَمْ يُخْرِجْهُ فِي الصَّحِيحِ؛ لِأَنَّ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ الْأَعْمَشُ: أَرَى أَبَا سُفْيَانَ ذَكَرَهُ، فَالْأَعْمَشُ كَانَ يَشُكُّ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ، فَصَارَتْ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ بِذَلِكَ ضَعِيفَةً، وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى الْهِرِّ إِذَا تَوَحَّشَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَى تَسْلِيمِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ حِينَ كَانَ مَحْكُومًا بِنَجَاسِتِهِ، ثُمَّ حِينَ صَارَ مَحْكُومًا بِطَهَارَةِ سُؤْرِهِ حَلَّ ثَمَنُهُ، وَلَيْسَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْ هَذَيْنِ الْقَوْلَيْنِ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کتے اور بلے کی قیمت سے منع کیا ہے“۔ یہ حدیث ابوداؤد نے اپنی سنن میں روایت کی ہے، یہ حدیث امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق صحیح ہے، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ کی شرائط پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ امام بخاری ابوزبیر اور ابوسفیان کی روایت سے دلیل نہیں لیتے۔
شاید امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں اس لیے روایت نہیں کیا کہ وکیع بن جراح نے اسے اعمش سے روایت کیا تو کہا: جابر بن عبداللہ نے کہا، پھر اعمش نے کہا: میرا خیال ہے کہ ابوسفیان نے اسے ذکر کیا تھا۔ چنانچہ اعمش کو حدیث کے متصل ہونے میں شک تھا، اس وجہ سے ابوسفیان کی روایت ضعیف ہو گئی۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب بلی مانوس نہ کی گئی ہو اور بعض کا خیال ہے کہ یہ ابتدائے اسلام کی بات ہے جب بلی کا جھوٹا حرام تھا، پھر جب بلی کا جھوٹا حلال ہو گیا تو اس کی قیمت لینا بھی حلال ہو گیا، ان دونوں قولوں کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11038