السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما روي في طلب الماء وفي حد الطلب باب: پانی کی تلاش اور تلاش کی حد کے بارے میں مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، تَيَمَّمَ بِمِرْبَدِ النَّعَمِ وَصَلَّى وَهُوَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ مَنَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدْ " رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَرَوَاهُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ وَمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مربد النعم جگہ پر تیمم کیا اور نماز پڑھی اور وہ جگہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، پھر وہ مدینہ میں داخل ہوئے اور سورج بلند تھا، انہوں نے نماز نہیں لوٹائی۔