السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب بيوع الكلاب وغيرها مما لا يحل -- باب: النهي عن ثمن الكلب باب: کتوں اور ان کے علاوہ دیگر ناجائز اشیاء کی بیع پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: کتے کی قیمت (وصول کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11015
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جِسْتَاسٍ، وَلَيْسَ بِالْمَشْهُورِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: " قُضِيَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ، وَفِي كَلْبِ الزَّرْعِ بِفَرَقٍ مِنْ طَعَامٍ، وَفِي كَلْبِ الدَّارِ فَرَقٌ مِنْ تُرَابٍ، حَقٌّ عَلَى الَّذِي ⦗١٣⦘ قَتَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ، وَحَقٌّ عَلَى صَاحِبِ الْكَلْبِ أَنْ يَقْبَلَ مَعَ نَقْصٍ مِنَ الْأَجْرِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو اسماعیل بن جستاس نے روایت کیا ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مشہور نہیں ہے، وہ فرماتے ہیں: ”شکاری کتے کے بارے میں چالیس درہم کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بکریوں کی نگرانی والے کتے کے لیے ایک بکری کا جرمانہ مقرر کیا گیا اور کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے کا جرمانہ گندم کا ایک بڑا برتن ہے اور گھریلو کتے کے جرمانہ کا مٹی کے ایک بڑے برتن کا فیصلہ کیا گیا۔ جو کسی کتے کو مارے اس پر واجب ہے کہ وہ مطلوبہ جرمانہ ادا کرے اور کتے کا مالک بھی نیکیوں میں خسارے کے ساتھ اس کو تبدیل کرے۔“