السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب بيوع الكلاب وغيرها مما لا يحل -- باب: النهي عن ثمن الكلب باب: کتوں اور ان کے علاوہ دیگر ناجائز اشیاء کی بیع پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: کتے کی قیمت (وصول کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ بَعْضِ مَنْ كَانَ يُنَاظِرُهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَغْرَمَ رَجُلًا ثَمَنَ كَلْبٍ قَتَلَهُ عِشْرِينَ بَعِيرًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ ثَبَتَ هَذَا عَنْ عُثْمَانَ كُنْتَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا فِي احْتِجَاجِكَ عَلَى شَيْءٍ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالثَّابِتُ عَنْ عُثْمَانَ خِلَافُهُ، قَالَ: فَاذْكُرْهُ، قُلْتُ: ⦗١٢⦘ أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَيْفَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ مَا يُغْرَمُ مَنْ قَتَلَهُ قِيمَتَهُ؟ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الَّذِي رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تَضْمِينِ الْكَلْبِ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ فِي قَضِيَّةٍ ذَكَرَهَا مُنْقَطِعَةً، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ.عمران بن ابی انس فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کتا مارنے پر ایک آدمی کو بیس اونٹ جرمانہ لگایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر عثمان رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو جائے تو تو رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ احادیث کے بارے میں کوئی احتجاج نہیں کرے گا؟ حال یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کا خلاف ثابت ہے۔ اس نے کہا: بیان کیجیے، میں نے کہا: حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کتوں کے قتل کا حکم دے رہے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ کیسے کتوں کے قتل کا حکم دے سکتے تھے حالانکہ انہوں نے کتا قتل کرنے پر قیمت ادا کرنے کا جرمانہ لگایا تھا؟ روایت ضعیف ہے، عمران کا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔