حدیث نمبر: 10975
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْنَا أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعَلِّمَ فِي هَذَا الْحِيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا فَكَانَ أَوَّلَ مَا لَقِينَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ وَمَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا عَمُّ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفَعةً مِنْ غَضِبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَمِيِّ مَالٌ فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَسَلَّمْتُ فَقُلْتُ: ثَمَّ هُوَ؟ قَالُوا: لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ صَغِيرٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلِيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنَا وَاللهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَكْذِبُكَ خَشِيتُ وَاللهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ وَاللهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ ثُمَّ مَحَاهَا بِيَدِهِ وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنِي هَاتَيْنِ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَ أُذُنِي هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ " ⦗٥٨٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں علم کی تلاش کے لیے، ان کی وفات سے پہلے نکلے۔ سب سے پہلے ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے ملے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا اور ان کے پاس قرآن کے کچھ اجزا تھے۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کے اوپر ایک معافری چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی۔ میرے والد نے کہا: اے چچا! میں آپ کے چہرے پر غصے کی وجہ سے سیاہی دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: فلاں بن فلاں «الْحَرَامِيِّ» ”حَرَامی“ (قبیلہ بنو حرام کے ایک فرد) کے ذمے میرا مال تھا۔ میں ان کے گھر آیا اور سلام کیا، میں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے، پھر اس کا چھوٹا بیٹا میرے پاس آیا، میں نے پوچھا: تمہارا والد کدھر ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری امی کی چادر یا تکیہ کے پیچھے چھپ گئے۔ میں نے پکار کر کہا: باہر نکلو! میں جانتا ہوں کہ تم کہاں چھپے ہو؟ جب وہ باہر آیا تو میں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو حقیقت بیان کروں گا، پھر کہا: میں جھوٹ نہیں بولوں گا، کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں یا یہ کہ میں آپ سے وعدہ کروں اور وعدہ خلافی کروں، جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم! میں واقعی تنگ دست ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم!“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ میں نے پھر پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ پھر وہ معاہدے والا کاغذ اور صحیفہ لائے، اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور فرمایا: ”اگر تم قرض کی واپسی کی گنجائش پاؤ تو واپس کر دینا وگرنہ تم اس سے بری (آزاد) ہو۔“ میری ان دو آنکھوں نے دیکھا—اور انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں—اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اسے محفوظ رکھا—اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا—کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنا سایہ نصیب فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10975
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 3006»