حدیث نمبر: 10947
قَالَ: وحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ ⦗٥٧٧⦘ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ قَوْمٍ بِمَكَّةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ يَكْتُبُ بِهَا إِلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِالْعِرَاقِ فَيَأْخُذُونَهَا مِنْهُ، فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ أَخَذُوا أَفْضَلَ مِنْ دَرَاهِمِهِمْ، قَالَ: " لَا بَأْسَ إِذَا أَخَذُوا بِوَزْنِ دَرَاهِمِهِمْ " وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِغَيْرِ شَرْطٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں لوگوں سے رقم لیتے، پھر عراق میں مصعب بن عمیر کو خط لکھ دیتے، یہ لوگ ان سے رقم وصول کر لیتے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال ہوا۔ وہ بھی کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا: وہ اس سے بہتر وصول کر لیں؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، جب وہ اپنے درہموں کے وزن کے مطابق وصول کریں۔
(ب) اس سے ان کی مراد یہ ہے جو بغیر شرط کے ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10947
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»