السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرجل يقضيه خيرا منه بلا شرط طيبة به نفسه باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 10944
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَضَاهُ دَرَاهِمَ خَيْرًا مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذِهِ خَيْرٌ مِنْ دَرَاهِمِي الَّتِي أَسْلَفْتُكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ وَلَكِنَّ نَفْسِي بِذَلِكَ طَيِّبَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کسی سے چند درہم قرض لیا، پھر اس سے بہتر واپس کر دیا، اس آدمی نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! یہ درہم میرے درہموں سے زیادہ اچھے ہیں۔“ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں جانتا تھا لیکن میں نے اپنی خوشی سے ادا کیے ہیں۔“