السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الرجل يقضيه خيرا منه بلا شرط طيبة به نفسه باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 10941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي، قَالَ: " نَعَمْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا بُخْتِيَّةً " ثُمَّ قَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَقَضَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا أَفْضَلُ مِنْ بَكْرِي، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ، إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹ فروخت کیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر قرض کا تقاضا کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بختی اونٹ عطا کروں گا۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھے میرا قرض احسن طریقے سے ادا کیا، پھر ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میرا اونٹ دو۔ آپ ﷺ نے دو دانت والا اونٹ عطا کیا تو دیہاتی کہنے لگا: یہ میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین لوگ وہ ہیں جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھے ہیں۔“