السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع ما ليس عندك، وبيع ما لا تملك باب: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے بیچنے اور جس چیز کے تم مالک نہ ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10856
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ إِلَى ⦗٥٥٥⦘ أَهْلِ مَكَّةَ " أَنْ أَبْلِغْهُمْ عَنِّي أَرْبَعَ خِصَالٍ أَنْ لَا يَصْلُحَ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعٌ وَسَلَفٌ، وَلَا بَيْعُ مَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا رِبْحُ مَا لَا يَضْمَنُ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ والوں کی طرف روانہ کیا اور فرمایا: ”میری طرف سے ان کو چار خصلتوں کے بارے میں بتانا: 1۔ ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں، 2۔ بیع اور قرض، 3۔ جس کے مالک نہ ہوں اسے فروخت نہ کریں، 4۔ اس چیز کے نفع سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ ہو۔“