حدیث نمبر: 10843
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ، فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بِعْنِيهِ " فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ وَقُلْتُ: عَلَى أَنَّ ظَهْرَهُ لِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً، ثُمَّ وَهَبَهُ لِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَبَعْضِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ شَرْطًا فِي الْبَيْعِ، وَبَعْضُهَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَضُّلًا، وَتَكَرُّمًا وَمَعْرَوفًا بَعْدَ الْبَيْعِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوزبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو دوڑایا تو وہ بھاگنے لگا، پھر میں اس کی لگام کو کنٹرول کرتا رہا، لیکن میں نہ کر سکا۔ نبی ﷺ مجھے ملے اور فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے اسے پانچ اوقیہ میں فروخت کر دیا اور میں نے مدینہ تک سواری کرنے کی شرط کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ مدینہ تک سواری کر لیں۔“ جب میں مدینہ آیا تو میں اونٹ لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے ایک اوقیہ زیادہ کر دیا اور پھر وہ مجھے ہبہ کر دیا۔
نوٹ: بعض الفاظ بیع میں شرط کرنے پر دلالت کرتے ہیں اور بعض یہ کہ بیع کے بعد احسان وغیرہ کیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10843
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 715»