السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من باع حيوانا، أو غيره واستثنى منافعه مدة باب: جس شخص نے کوئی جانور یا کوئی اور چیز بیچی اور ایک مقررہ مدت تک اس کے منافع کا اپنے لیے استثناء کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْطَى امْرَأَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، فَبَاعَتْهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ خِدْمَتَهَا فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَرَيْتَ جَارِيَةَ امْرَأَتِكَ فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْكَ خِدْمَتَهَا؟ " فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهَا وَفِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ " وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا تَقَعَنَّ عَلَيْهَا وَلِأَحَدٍ فِيهَا شَرْطٌ "، وَرَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُرْسَلًا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ مَثْنَوِيَّةٌ لِغَيْرِكَ "، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَرِهَتِ الشَّرْطَ فِي الْخَادِمِ أَنْ يُبَاعَ، أَوْ يُوهَبَ بِشَرْطٍ.سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کو خمس سے ایک لونڈی دی، اس نے وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک ہزار درہم میں فروخت کر دی اور خدمت کی شرط لگا دی، یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! کیا تو نے اپنی بیوی سے لونڈی خریدی ہے اور اس نے تم پر خدمت کی شرط لگائی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تو اس کو نہ خرید کیونکہ اس میں دو کا حصہ ہے
(ب) سیدنا عمر بن خطاب نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اس پر اور کسی پر بھی واقع نہ ہونا جس میں شرط ہو
(ج) قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ یہ تیرا مال نہیں ہے جس میں کسی دوسرے کا بھی حصہ ہو۔