السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الشرط الذي يفسد البيع باب: اس شرط کا بیان جو بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 10828
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مِنْهَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے قرض اور بیع، ایک بیع میں دو شرطیں کرنے، ایسی چیز کو فروخت کرنے جو آپ کے پاس نہ ہو، اور اس چیز کے نفع سے فائدہ اٹھانے جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ ہو، سے منع فرمایا ہے۔“