حدیث نمبر: 10819
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو الحوراء کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا نبی ﷺ سے کچھ یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان کا باعث ہے جبکہ جھوٹ شک کا سبب ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10819
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الترمذي 2518»