السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: اختلاف المتبايعين باب: خریدار اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف کا بیان۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْأَشْعَثِ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بِعْتُكَهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الْأَشْعَثُ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشَرَةِ آلَافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَاتِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " قَالَ الْأَشْعَثُ: أَرَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، خَالَفَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى الْجَمَاعَةَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فِي ⦗٥٤٥⦘ إِسْنَادِهِ حَيْثُ قَالَ عَنْ أَبِيهِ وَفِي مَتْنِهِ حَيْثُ زَادَ فِيهِ " وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ "، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَقَالَ فِيهِ: " وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِيَ بِعَيْنِهَا "، وَإِسْمَاعِيلُ إِذَا رَوَى عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ لَمْ يُحْتَجَّ بِهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَإِنْ كَانَ فِي الْفِقْهِ كَبِيرًا فَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الرِّوَايَةِ؛ لِسُوءِ حِفْظِهِ؛ وَكَثْرَةِ أَخْطَائِهِ فِي الْأَسَانِيدِ وَالْمُتُونِ وَمُخَالَفَتِهِ الْحُفَّاظَ فِيهَا وَاللهُ يَغْفِرُ لَنَا وَلَهُ، وَقَدْ تَابَعَهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنِ الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو حکومت کے غلاموں میں سے کوئی غلام فروخت کیا، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے قیمت میں اختلاف کیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تجھے غلام ۲۰ ہزار میں فروخت کیا ہے اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ۱۰ ہزار میں خریدا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر چاہو تو میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناؤں جو میں نے آپ ﷺ سے سن رکھی ہے، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لاؤ۔ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں اور بیع کی اصل موجود ہو اور ان کے درمیان دلیل نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات معتبر ہے یا دونوں بیع کو ترک کر دیں“ تو سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بیع کو رد کر دیا جائے۔
(ب) ابن ابی شیبہ کی حدیث کے لفظ ہیں کہ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کرنے میں ایک جماعت کی مخالفت کی ہے، اس میں اضافہ ہے کہ بیع اپنی اصلی حالت میں قائم ہو۔
(ج) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ہے کہ سامانِ تجارت ویسے ہی موجود ہو، یعنی اپنی اصل حالت میں۔