حدیث نمبر: 10812
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو عُمَيْسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، يَعْنِي الْمَسْعُودِيَّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: بَاعَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنَ الْخُمُسِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي أَثْمَانِهِمْ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا بِعْتَنِي بِعَشَرَةِ أَلَآفٍ، - فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ نَسِيَ الْأَشْعَثُ أَوِ اسْتَغْلَى الْبَيْعَ -، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَأَخْتَارُ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَأَقْضِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ بِقَضَاءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ، أَوْ يَتَتَارَكَانِ " فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فَإنَّى أُتَارِكُكَ الْبَيْعَ، فَتَارَكَهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخُو الْقَاسِمِ، وَأَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

قاسم رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام ٢٠ ہزار کا خرید لیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قیمت کے تقاضا کے لیے آدمی بھیجا، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ نے مجھے ١٠ ہزار کا فروخت کیا ہے، یا تو سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ بھول گئے یا انھوں نے زیادہ قیمت کی بیع کی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ٢٠ ہزار کا ہی فروخت کیا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان کوئی آدمی مقرر کرلو، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کا انتخاب کرتا ہوں فیصلے کے لیے، تو کہنے لگے: میں تیرے اور اپنے درمیان وہ فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو بیع کرنے والے اختلاف کریں اور دونوں کے درمیان دلیل نہ ہو تو معتبر بات سامان کے مالک کی ہے یا پھر دونوں بیع کو چھوڑ دیں“ تو سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بیع کو چھوڑتا ہوں، تو انھوں نے بھی چھوڑ دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10812
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 1/466۔ الطيالسي 399»