حدیث نمبر: 10793
حافظ ثناء اللہ

مرابحہ سے مراد ہے کہ فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ اس پر میری یہ لاگت آئی ہے اور اب میں اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر بیچتا ہوں۔

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيَّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَشْتَرِي الْعِيرَ فَيَقُولُ: " مَنْ يُرْبِحُنِي عَقْلَهَا؟، مَنْ يَضَعُ فِي يَدِي دِينَارًا ".
حافظ ثناء اللہ

محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اونٹ کے قافلے کو خریدتے تو فرماتے: کون مجھے اس رسی پر ایک دینار منافع دے گا؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10793
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»