السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في عهدة الرقيق باب: غلاموں (کی بیع) میں عہدہ (ضمانت کی مدت) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ قَالَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ أَهْلِ النَّقْلِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْخَبَرُ فِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ عُهْدَةَ ثَلَاثٍ خَاصٌّ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ فِيمَا مَضَى عُهْدَةٌ فِي الْأَرْضِ لَا مِنْ هِيَامٍ وَلَا مِنْ جُذَامٍ وَلَا شَيْءٍ، قُلْتُ لَهُ: مَا ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟ قَالَ: لَا شَيْءَ إِذَا ابْتَاعَهُ صَحِيحًا لَا أَرَى إِلَّا ذَلِكَ، اللهُ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِبَيِّنَةٍ عَلَى شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ أَنْ يَبْتَاعَهُ وَكَذَلِكَ يُرَى الْأَمْرُ الْآنَ.علی بن عبداللہ مدینی رحمہ اللہ نے یہی بات کہی ہے (کہ حسن نے عقبہ سے نہیں سنا)، اور اسی طرح ائمہ نقل کی ایک جماعت نے بھی کہا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو غلام کے عیب کی ضمانت تین دن دی تھی، یہ انہی کے ساتھ خاص تھا۔
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں روئے زمین پر کہیں بھی ضمانت نہ ہوتی تھی، نہ پیاس کی بیماری کی، نہ کوڑھ کی اور نہ کسی اور چیز کی۔ میں نے ان سے کہا: کیا تین دن نہ تھے؟ فرماتے ہیں: جب صحیح فروخت کی جائے پھر کوئی ضمانت نہیں۔ بعد میں اللہ کوئی بیماری پیدا کرے تو اس کی مرضی۔ لیکن اگر ثابت ہو جائے کہ فروخت سے پہلے یہ بیماری تھی پھر ضمانت ہے، معاملہ اسی طرح ہی چل رہا ہے۔